9 اشعار

وہ خط کے پرزے اڑا رہا تھا

Woh khat ke purze uda raha tha

وہ خط کے پرزے اڑا رہا تھا

«وہ خط کے پرزے اڑا رہا تھا» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

وہ خط کے پرزے اڑا رہا تھاہواؤں کا رخ دکھا رہا تھا

بتاؤں کیسے وہ بہتا دریاجب آ رہا تھا تو جا رہا تھا

کچھ اور بھی ہو گیا نمایاںمیں اپنا لکھا مٹا رہا تھا

دھواں دھواں ہو گئی تھیں آنکھیںچراغ کو جب بجھا رہا تھا

منڈیر سے جھک کے چاند کل بھیپڑوسیوں کو جگا رہا تھا

اسی کا ایماں بدل گیا ہےکبھی جو میرا خدا رہا تھا

وہ ایک دن ایک اجنبی کومری کہانی سنا رہا تھا

وہ عمر کم کر رہا تھا میریمیں سال اپنے بڑھا رہا تھا

خدا کی شاید رضا ہو اس میںتمہارا جو فیصلہ رہا تھا

— گلزار