5 اشعار

ذکر آئے تو مرے لب سے دعائیں نکلیں

Zikr aaye to mere lab se duaen niklin

ذکر آئے تو مرے لب سے دعائیں نکلیں

«ذکر آئے تو مرے لب سے دعائیں نکلیں» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

ذکر آئے تو مرے لب سے دعائیں نکلیںشمع جلتی ہے تو لازم ہے شعاعیں نکلیں

وقت کی ضرب سے کٹ جاتے ہیں سب کے سینےچاند کا چھلکا اتر جائے تو قاشیں نکلیں

دفن ہو جائیں کہ زرخیز زمیں لگتی ہےکل اسی مٹی سے شاید مری شاخیں نکلیں

چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیںدل کو پگھلائیں تو ہو سکتا ہے سانسیں نکلیں

غار کے منہ پہ رکھا رہنے دو سنگ خورشیدغار میں ہاتھ نہ ڈالو کہیں راتیں نکلیں

— گلزار