10 اشعار

تجھ سے ناراض نہیں زندگی

Tujh se naraaz nahin zindagi

تجھ سے ناراض نہیں زندگی

«تجھ سے ناراض نہیں زندگی» گلزار کا کلام ہے، جسے ریبل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

تجھ سے ناراض نہیں زندگیحیران ہوں میں

تیرے معصوم سوالوں سےپریشان ہوں میں

جینے کے لئے سوچا ہی نہیںدرد سنبھالنے ہوں گے

مسکرائیں تو مسکرانے کےقرضے اُتارنے ہوں گے

مسکراؤں کبھی تو لگتا ہےجیسے ہونٹوں پہ قرض رکھا ہے

زندگی تیرے غم نے ہمیںرشتے نئے سمجھائے

ملے جو ہمیں دھوپ میں ملےچھاؤں کے ٹھنڈے سائے

آج اگر بھر آئیں ہیںبوندیں برس جائیں گی

کل کیا پتہ اِن کے لئےآنکھیں ترس جائیں گی

جانے کب گُم ہوا کہاں کھویاایک آنسو چھپا کے رکھا تھا

— گلزار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں