5 اشعار

ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کا

Zikr hota hai jahan bhi mere afsane ka

ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کا

«ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کا» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کاایک دروازہ سا کھلتا ہے کتب خانے کا

ایک سناٹا دبے پاؤں گیا ہو جیسےدل سے اک خوف سا گزرا ہے بچھڑ جانے کا

بلبلہ پھر سے چلا پانی میں غوطے کھانےنہ سمجھنے کا اسے وقت نہ سمجھانے کا

میں نے الفاظ تو بیجوں کی طرح چھانٹ دیئےایسا میٹھا ترا انداز تھا فرمانے کا

کس کو روکے کوئی رستے میں کہاں بات کرےنہ تو آنے کی خبر ہے نہ پتا جانے کا

— گلزار