5 اشعار

بت کرے سجدہ ترے حسنِ خداداد کو دیکھ

But kare sajda tere husn-e-khudadad ko dekh

بت کرے سجدہ ترے حسنِ خداداد کو دیکھ

«بت کرے سجدہ ترے حسنِ خداداد کو دیکھ» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

بت کرے سجدہ ترے حسنِ خداداد کو دیکھسرو بندہ ہو، ترے قامتِ آزادکو دیکھ

ان گنہگاروں میں ، ہوں میں کہ مزے کے مارےجی نکلتا ہے مرا دُور سے جلاد کو دیکھ

عمر میں تو نے تو دیکھے ہیں بہت بت خانےآتو، اے چرخ ٹک اک اس دلِ ناشاد کو دیکھ

حسن گل کا تو مسلَم ہے ، و لیکن بلبلعشق گر تجھ کو ہے منظور تو صیاد کو دیکھ

عشق کے جور و ستم میں گر شک ہے یقیںعیش پرویز کو اور محنتِ فرہاد کو دیکھ

— انعام اللہ خاں یقین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں