5 اشعار

ہے ترے داغ سے تر سینۂ سوزاں میرا

Hai tere daagh se tar seena-e-sozañ mera

ہے ترے داغ سے تر سینۂ سوزاں میرا

«ہے ترے داغ سے تر سینۂ سوزاں میرا» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

ہے ترے داغ سے تر سینۂ سوزاں میراآب و رنگ آگ سے رکھتا ہے گلستاں میرا

غم کے ہاتھوں نہ رہا کچھ بھی رفو کے قابلبسکہ سو بار ہوا چاک گریباں میرا

موج دریا کی طرح ضبط میں آ سکتا نہیںکوئی کیوں کر کہے احوال پریشاں میرا

رو اگر دیجئے اس کو بھی تو کچھ عیب نہیںآئنے سے بھی گیا کیا دل حیراں میرا

میں تو ظاہر نہ کروں اس کی جفا کو لیکنچھپ سکے کیوں کہ یقیںؔ زخم نمایاں میرا

— انعام اللہ خاں یقین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں