5 اشعار

اتنا کوئی جہاں میں کبھو بے وفا نہ تھا

Itna koi jahan mein kabhu be-wafa na tha

اتنا کوئی جہاں میں کبھو بے وفا نہ تھا

«اتنا کوئی جہاں میں کبھو بے وفا نہ تھا» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

اتنا کوئی جہاں میں کبھو بے وفا نہ تھاملتے ہی میرے مجھ سے یہ دل آشنا نہ تھا

اب جوں سرشک خاک سے سکتا نہیں ہوں اٹھآگے میں دل کی آنکھ سے اتنا گرا نہ تھا

ناصح جو یہ نصیحت بے جا نہ میں سنیمعذور رکھ تو مجھ کو مرا دل بجا نہ تھا

مرنے کی طرح میں نے جو یہ اختیار کیدیکھا تو زندگی میں مزا کچھ رہا نہ تھا

جو کچھ کہیں یہ تجھ کو یقیںؔ ہے سزا تریبندہ جو تو بتوں کا ہوا کیا خدا نہ تھا

— انعام اللہ خاں یقین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں