5 اشعار

کیا قیامت ہے بتوں کی بزم میں جانے کا حظ

Kya qayamat hai buton ki bazm mein jaane ka haz

کیا قیامت ہے بتوں کی بزم میں جانے کا حظ

«کیا قیامت ہے بتوں کی بزم میں جانے کا حظ» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

کیا قیامت ہے بتوں کی بزم میں جانے کا حظہم کو خدمت کا انہوں کو کام فرمانے کا حظ

وصل میں بھی درد مندوں کو نہیں راحت نصیبدیکھ لیجے شمع کے ملنے سے پروانے کا حظ

اس طرف گل ٹوٹتا ہے اس طرف بلبل کا دلکیا رہا گلچیں کے ہاتھوں باغ میں جانے کا حظ

جی نکلتا ہے مرا اس پر کہ کب آئے گا ہاتھیار کے پاؤں پہ سر کو رکھ کے مر جانے کا حظ

بوجھتا ہے خوب کیفیت نظارے کی یقیںؔاس نگاہ مست سے لیتا ہے میخانے کا حظ

— انعام اللہ خاں یقین