7 اشعار

دہائی دوں کہ کھلے ظلم سے بچائے مجھے

Duhai dun ke khule zulm se bachaye mujhe

دہائی دوں کہ کھلے ظلم سے بچائے مجھےکوئی نہیں مرے پنجے سے جو چھڑائے مجھے

میں اپنے جسم کے پتھر کو ٹھوکریں ماروںمگر یہ شغل اذیت پسند آئے مجھے

مرے ہی منہ کو مرا خون لگ چکا ہے یہاںمرے سوا کوئی قاتل نظر نہ آئے مجھے

میں اشتہار لگاؤں بدن پہ غزلوں کےوہ چاہتا ہے کہ شو کیس میں سجائے مجھے

میں خود بھی اپے اشاروں پہ آج تک نہ چلاوہ انگلیوں پہ بھلا کس طرح نچائے مجھے

مزہ تو جب ہے شعاعیں بھی چھتریاں بن جائیںخود آفتاب چلے لے کے سائے سائے مجھے

بدل چکے ہیں رویے شکایتیں کیسیمیں جس سے بچ کے چلوں وہ نہ منہ لگائے مجھے

— اقبال ساجد