8 اشعار

غار سے سنگ ہٹایا تو وہ خالی نکلا

Ghaar se sang haTaya to woh khaali nikla

غار سے سنگ ہٹایا تو وہ خالی نکلاکسی قیدی کا نہ کردار مثالی نکلا

چڑھتے سورج نے ہر اک ہاتھ میں کشکول دیاصبح ہوتے ہی ہر اک گھر سے سوالی نکلا

سب کی شکلوں میں تری شکل نظر آئی مجھےقرعۂ فال مرے نام پہ گالی نکلا

راس آئے مجھے مرجھاتے ہوئے زرد گلابغم کا پرتو مرے چہرے کی بحالی نکلا

کٹ گیا جسم مگر سائے تو محفوظ رہےمیرا شیرازہ بکھر کر بھی مثالی نکلا

رات جب گزری تو پھر صبح حنا رنگ ہوئیآسماں جاگی ہوئی آنکھ کی لالی نکلا

رات مجھ سے بھی تو ہر گھر کے در و بام سجےچاند کی طرح مرا عکس خیالی نکلا

تخت خالی ہی رہا دل کا ہمیشہ ساجدؔاس ریاست کا تو کوئی بھی نہ والی نکلا

— اقبال ساجد