5 اشعار

خوف دل میں نہ ترے در کے گدا نے رکھا

Khauf dil mein na tere dar ke gada ne rakha

خوف دل میں نہ ترے در کے گدا نے رکھادن کو کشکول بھرا شب کو سرہانے رکھا

فکر معیار سخن باعث آزار ہوئیتنگ رکھا تو ہمیں اپنی قبا نے رکھا

رات فٹ پاتھ پہ دن بھر کی تھکن کام آئیاس کا بستر بھی کیا سر پہ بھی تانے رکھا

خوف آیا نہیں سانپوں کے گھنے جنگل میںمجھ کو محفوظ مری ماں کی دعا نے رکھا

یہ الگ بات سمندر پہ وہ برسی ساجدؔاور کسی کھیت کو پیاسا نہ گھٹا نے رکھا

— اقبال ساجد