7 اشعار

روشنی کے اک حوالے کو لئے پھرتا ہوں میں

Roshni ke ek hawale ko liye phirta hun main

روشنی کے اک حوالے کو لئے پھرتا ہوں میںاپنی جیبوں میں اجالے کو لئے پھرتا ہوں میں

میرا مسلک ہے جہاں میں سب کو ٹھنڈک بانٹناچاند ہوں دھرتی پہ ہالے کو لئے پھرتا ہوں میں

صدق کے اظہار کا اس سے بڑا کیا ہو ثبوتآج کل ہونٹوں پہ تالے کو لئے پھرتا ہوں میں

موت کو مجھ سے نہیں ہے چھیننے والا کوئیزہر خالص کے پیالے کو لئے پھرتا ہوں میں

جو بھی میرے سامنے آئے گا کھائے گا شکستدل میں امیدوں کے بھالے کو لئے پھرتا ہوں میں

ہو گیا ہے آنکھ میں محفوظ خوں رویا ہوابادلوں کے سرخ گالے کو لئے پھرتا ہوں میں

پرورش پاتی ہیں ساجد مکڑیاں تخلیق کیذہن میں سوچوں کے جالے کو لئے پھرتا ہوں میں

— اقبال ساجد