7 اشعار

کاٹی نہیں تو ہر طرف پھیلے گی شاخ جبر کی

Kaati nahin to har taraf phailegi shakh-e-jabr ki

کاٹی نہیں تو ہر طرف پھیلے گی شاخ جبر کیصبر کی بات چھوڑیئے ہوتی ہے حد بھی صبر کی

ڈھونڈ اب ایسی سرزمیں جس کی تمام کھیتیاںمانگیں نہ آسمان سے بھیک کبھی بھی ابر کی

کرب کا بحر‌ بیکراں چاروں طرف ہے موجزنگھر میں گھڑی مقیم ہے کب سے عذاب قبر کی

پہلے تو گھر کے صحن میں دھوپ کی برچھیاں گریںبعد میں چھت پہ آ گئی فوج غنیم ابر کی

بھیک میں لے کے جرأتیں آئے تو پاؤں جھڑ گئےپھاند سکے نہ اس لئے لوگ فصیل جبر کی

راہ مراد اس لیے اور بھی دور ہو گئیاس میں تھا قحط حوصلہ مجھ میں کمی تھی صبر کی

صحن میں پھول پھول جسم کھیل رہے ہیں ہر طرفخوف نہیں ہے دھوپ کا فکر نہیں ہے ابر کی

— اقبال ساجد