9 اشعار

جہاں بھونچال بنیاد فصیل و در میں رہتے ہیں

Jahan bhonchaal buniyad-e-faseel-o-dar mein rehte hain

جہاں بھونچال بنیاد فصیل و در میں رہتے ہیںہمارا حوصلہ دیکھو ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں

دکھاوے کے لئے خوش حالیاں لکھتے ہیں کاغذ پرہم اس دھرتی پہ ورنہ رزق کے چکر میں رہتے ہیں

ضرورت ہی لیے پھرتی ہے ہم کو دربدر ورنہہم ان میں سے نہیں جو جستجوئے زر میں رہتے ہیں

لہو سے جو اٹھائی تھیں وہ بنیادیں نہیں اپنییہی محسوس ہوتا ہے پرائے گھر میں رہتے ہیں

کبھی بیداریاں قسمت تھیں اب نیندیں مقدر ہیںہمارا کیا ہے ہم تو شہر خواب آور میں رہتے ہیں

مزا مل جائے گا تجھ کو بھی سنگ راہ بننے کاترے جیسے تو میرے پاؤں کی ٹھوکر میں رہتے ہیں

وہ خوشبو دار چہرے جو نگاہ و دل کے مرکز تھےخدا جانے بچھڑ کر ہم سے کس محور میں رہتے ہیں

دکھوں کے باغ میں ہر وقت شاخ زخم پھلتی ہےازل سے یہ شجر کرب ثمر آور میں رہتے ہیں

کوئی شہکار فن تکمیل کا دعویٰ نہیں کرتاادھورے پن کے دکھ ساجدؔ ہر اک پیکر میں رہتے ہیں

— اقبال ساجد