5 اشعار

ہزار بار وہ بیٹھا ہزار بار اٹھا

Hazaar baar woh baitha hazaar baar utha

ہزار بار وہ بیٹھا ہزار بار اٹھابچا نہ شہر میں کچھ بھی تو چوب دار اٹھا

ازل سے راہ نوردی جو تھی وہ اب بھی ہےابھی چھٹا تھا ابھی راہ میں غبار اٹھا

نفس کے تار کی گرہیں کہ کائنات کے خمسراب دل میں تھا صحرا کے آر پار اٹھا

خموشیوں کے تکلم کو پوجنے والاوہی تھا بزم میں آخر گناہ گار اٹھا

وہ ساتھ تھا تو مقدس تھے میرے سارے حروفبچھڑ گیا ہے تو لفظوں کا اعتبار اٹھا

— اقتدار جاوید