7 اشعار

میں سنتا رہتا ہوں نغمے کمال کے اندر

Main sunta rehta hoon naghme kamaal ke andar

میں سنتا رہتا ہوں نغمے کمال کے اندرکئی صدائیں پرندوں میں ڈال کے اندر

جو واہمے مرا اندر اجاڑ سکتے ہیںمیں رکھ رہا ہوں انہیں بھی سنبھال کے اندر

تمام مسئلے نوعیت سوال کے ہیںجواب ہوتے ہیں سارے سوال کے اندر

جگہ جگہ پہ کوئی تو ہزارہا نشتراتارتا ہے رگ احتمال کے اندر

طرح طرح کے گلاب آتشیں سلاخ کے ساتھنکال لاتا ہوں سوراخ ڈال کے اندر

یہ سلسلہ ذرا موقوف ہو تو دیکھوں گاخیال اور ہیں کتنے خیال کے اندر

تڑپتے رہتے ہیں دل کے نواح میں جاویدؔبہت سے اژدہے جیبھیں نکال کے اندر

— اقتدار جاوید