20 اشعار

گھوڑے کی موت

Ghode ki maut

گھوڑا مرا ہےکہ وہ اگلی ٹانگوں کو

اوپر اٹھاتا ہوامیرے دل میں

کہیں ناچتا ہےاسے موت یوں آئی

لوگوں کو جیسے وبا گھیر لیتی ہےیکدم

بڑے شہر کو گھیر لیتے ہیںآہستہ آہستہ جیسے مضافات

رقاصوں کے بیچیوں گھر گیا تھا

سیہ رنگ گھوڑاسیہ رنگ لوگوں میں گھرتی ہے

جیسے طوائفسیہ رنگ گھوڑے کے

گھٹنوں کے نیچےوہ گھنگھرو بندھے تھے

جو لوگوں کے سینے میں بجتے تھےگلیاں اجڑتی تھیں بازار سجتے تھے

گھوڑے کو شایدطوائف کی ازلی کہانی تھی ازبر

جسے سن کے وہ رقص کرتے ہوئے مر گیااپنے ماتھے ستاروں بھرے اپنے ماتھے کو

لوگوں کے قدموں میںیوں ٹیکتے ٹیکتے مر گیا

ایسے لگتا ہےگھوڑے کے سینے میں

شاعر کا دل تھاوہ گھوڑا مرے دل میں

اک خواب کی شکل میںجاگتا ہے

مرے دل کے میدان میںپوری مستی سے

نخرے سےنازوں سے

ٹانگوں کوٹھوڑی کے نزدیک لاتا ہوا

مستقل بھاگتا ہے

— اقتدار جاوید