5 اشعار

روبرو تیرے بہت دیر بٹھایا گیا میں

Rubaru tere bahut der baithaya gaya main

روبرو تیرے بہت دیر بٹھایا گیا میںوجد میں آیا نہیں وجد میں لایا گیا میں

سلسلہ ختم نہ ہوگا یہ دل آزاری کااس سے پہلے بھی کئی بار منایا گیا میں

یوں لگا سب نے گواہی دی کہ تو میرا ہےجب ترے نام سے بستی میں ستایا گیا میں

جب جب اسرار مری ذات کے کھلنے سے رہےچھیڑ کر ذکر ترا وجد میں لایا گیا میں

مجھ سے رستے میں ٹھہرنے کی اذیت پوچھوٹھوکریں مار کے رستے سے ہٹایا گیا میں

— اسماعیل راز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں