5 اشعار

ٹھوکروں میں اثر نہیں آیا

ThokaroN mein asar nahin aaya

ٹھوکروں میں اثر نہیں آیادل ابھی راہ پر نہیں آیا

خود میں دیکھا جو جھانک کر ترے بعدمجھ کو میں بھی نظر نہیں آیا

مدتوں سے سکوت چیختا ہےلیکن اب تک اثر نہیں آیا

چاند کس تمکنت سے نکلے گاتو اگر بام پر نہیں آیا

کب سے گھر چھوڑ کر گیا ہوا ہوںکب سے میں لوٹ کر نہیں آیا

— اسماعیل راز