5 اشعار

زندگی باعث امید بھی رسوائی بھی

Zindagi baa'is-e-ummeed bhi ruswaayi bhi

زندگی باعث امید بھی رسوائی بھیاس کی دہلیز تلک لے گئی بھی لائی بھی

اسے تو دیکھتے ہی ڈگمگا جاتے ہیں قدماور پھر اس پہ وہ لے لیتی ہے انگڑائی بھی

میں کہ تنہا بھی ہوں روتا بھی ہوں ہنستا بھی ہوںیعنی میں خود ہی تماشا بھی تماشائی بھی

اپنے عیبوں کو بھی اشعار میں کہہ دیتا ہوںاور ستم یہ ہے کہ ہوتی ہے پذیرائی بھی

میرے ہم راہ ترے سوگ میں رہتے ہیں مدامصرف کمرہ ہی نہیں صحن بھی انگنائی بھی

— اسماعیل راز