19 اشعار

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا

Zabt kar ke hansi ko bhool gaya

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا

«ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 54 سیکنڈ ہے۔

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیامیں تو اس زخم ہی کو بھول گیا

ذات در ذات ہم سفر رہ کراجنبی اجنبی کو بھول گیا

صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو باتمیں اسے شام ہی کو بھول گیا

عہد وابستگی گزار کے میںوجہ وابستگی کو بھول گیا

سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیںبحث کیا تھی اسی کو بھول گیا

کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پرایک میں ہر کسی کو بھول گیا

سب سے پر امن واقعہ یہ ہےآدمی آدمی کو بھول گیا

قہقہہ مارتے ہی دیوانہہر غم زندگی کو بھول گیا

خواب ہا خواب جس کو چاہا تھارنگ ہا رنگ اسی کو بھول گیا

کیا قیامت ہوئی اگر اک شخصاپنی خوش قسمتی کو بھول گیا

سوچ کر اس کی خلوت انجمنیواں میں اپنی کمی کو بھول گیا

سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیںجو بھلا تھا اسی کو بھول گیا

ان سے وعدہ تو کر لیا لیکناپنی کم فرصتی کو بھول گیا

بستیو اب تو راستہ دے دواب تو میں اس گلی کو بھول گیا

اس نے گویا مجھی کو یاد رکھامیں بھی گویا اسی کو بھول گیا

یعنی تم وہ ہو واقعی؟ حد ہےمیں تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا

آخری بت خدا نہ کیوں ٹھہرےبت شکن بت گری کو بھول گیا

اب تو ہر بات یاد رہتی ہےغالباً میں کسی کو بھول گیا

اس کی خوشیوں سے جلنے والا جونؔاپنی ایذا دہی کو بھول گیا

— جون ایلیا