28 اشعار

زمانے بھر کو اداس کر کے

Zamaane bhar ko udaas kar ke

زمانے بھر کو اداس کر کے

«زمانے بھر کو اداس کر کے» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 52 سیکنڈ ہے۔

زمانے بھر کو اداس کر کےخوشی کا ستیا ناس کر کے

میرے رقیبوں کو خاص کر کےبہت ہی دوری سے پاس کر کے

تمہیں یہ لگتا تھاجانے دیں گے ؟

سبھی کو جا کے ہماری باتیںبتاؤ گے اور

بتانے دیں گے ؟تم ہم سے ہٹ کر وصالِ ہجراں

مناؤ گے اورمنانے دیں گے ؟

میری نظم کو نیلام کر کےکماؤ گے اور

کمانے دیں گے ؟تو جاناں سن لو

اذیتوں کا ترانہ سن لوکہ اب کوئی سا بھی حال دو تم

بھلے ہی دل سے نکال دو تمکمال دو یا زوال دو تم

یا میری گندی مثال دو تممیں پھر بھی جاناں ۔۔۔۔۔۔۔!

میں پھر بھی جاناں ۔۔۔پڑا ہوا ہوں ، پڑا رہوں گا

گڑا ہوا ہوں ، گڑا رہوں گااب ہاتھ کاٹو یا پاؤں کاٹو

میں پھر بھی جاناں کھڑا رہوں گابتاؤں تم کو ؟

میں کیا کروں گا ؟میں اب زخم کو زبان دوں گا

میں اب اذیت کو شان دوں گامیں اب سنبھالوں گا ہجر والے

میں اب سبھی کو مکان دوں گامیں اب بلاؤں گا سارے قاصد

میں اب جلاؤں گا سارے حاسدمیں اب تفرقے کو چیر کر پھر

میں اب مٹاؤں گا سارے فاسدمیں اب نکالوں گا سارا غصہ

میں اب اجاڑوں گا تیرا حصہمیں اب اٹھاؤں گا سارے پردے

میں اب بتاؤں گا تیرا قصہمزید سُن لو۔۔۔

او نفرتوں کے یزید سن لومیں اب نظم کا سہارا لوں گا

میں ہر ظلم کا کفارہ لوں گااگر تو جلتا ہے شاعری سے

تو یہ مزہ میں دوبارہ لوں گامیں اتنی سختی سے کھو گیا ہوں

کہ اب سبھی کا میں ہو گیا ہوںکوئی بھی مجھ سا نہی ملا جب

خود اپنے قدموں میں سو گیا ہوںمیں اب اذیت کا پیر ہوں جی

میں عاشقوں کا فقیر ہوں جیکبھی میں حیدر کبھی علی ہوں

جو بھی ہوں اب اخیر ہوں جی...!

— جون ایلیا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں