6 اشعار

تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں

Tum Mera Dukh Baant Rahi Ho Aur Main Dil Mein Sharminda Hoon

تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں

«تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوںاپنے جھوٹے دکھ سے تم کوکب تک دکھ پہنچاؤں گا

تم تو وفا میں سرگرداں ہو شوق میں رقصاں رہتی ہومجھ کو زوالِ شوق کا غم ہے میں پاگل ہو جاؤں گا

جیت کے مجھ کو خوش مت ہونا میں تو اک پچھتاوا ہوںکھوؤں گا ، کڑھتا رہوں گا ، پاؤں گا ، پچھتاؤں گا

عہدِ رفاقت ٹھیک ہے لیکن مجھ کو ایسا لگتا ہےتم میرے ساتھ رہو گی میں تنہا رہ جاؤں گا

شام کہ اکثر بیٹھے بیٹھے دل کچھ ڈوبنے لگتا ہےتم مجھ کو اتنا نہ چاہوں میں شاید مر جاؤں گا

عشق کسی منزل میں آ کر اتنا بھی بے فکر نہ رہواب بستر پر لیٹوں گا میں لیٹتے ہی سو جاؤں گا​

— جون ایلیا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں