13 اشعار

بزم سے جب نگار اٹھتا ہے

Bazm Se Jab Nigar Uthta Hai

بزم سے جب نگار اٹھتا ہے

«بزم سے جب نگار اٹھتا ہے» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

بزم سے جب نگار اٹھتا ہےمیرے دل سے غبار اٹھتا ہے

میں جو بیٹھا ہوں تو وہ خوش قامتدیکھ لو بار بار اٹھتا ہے

تیری صورت کو دیکھ کر مری جاںخود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے

اس کی گل گشت سے روش بہ روشرنگ ہی رنگ یار اٹھتا ہے

تیرے جاتے ہی اس خرابے سےشور گریہ ہزار اٹھتا ہے

کون ہے جس کو جاں عزیز نہیںلے ترا جاں نثار اٹھتا ہے

صف بہ صف آ کھڑے ہوئے ہیں غزالدشت سے خاکسار اٹھتا ہے

ہے یہ تیشہ کہ ایک شعلہ سابر سر کہسار اٹھتا ہے

کرب تنہائی ہے وہ شے کہ خداآدمی کو پکار اٹھتا ہے

تو نے پھر کسب زر کا ذکر کیاکہیں ہم سے یہ بار اٹھتا ہے

لو وہ مجبور شہر صحرا سےآج دیوانہ وار اٹھتا ہے

اپنے یاں تو زمانے والوں کاروز ہی اعتبار اٹھتا ہے

جونؔ اٹھتا ہے یوں کہو یعنیمیرؔ و غالبؔ کا یار اٹھتا ہے

— جون ایلیا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں