10 اشعار

اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں

Uske pehlu se lag ke chalte hain

اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں

«اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیںہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیں

بند ہے مے کدوں کے دروازےہم تو بس یوں ہی چل نکلتے ہیں

میں اسی طرح تو بہلتا ہوںاور سب جس طرح بہلتے ہیں

وہ ہے جان اب ہر ایک محفل کیہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

کیا تکلف کریں یہ کہنے میںجو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

ہے اسے دور کا سفر در پیشہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں

شام فرقت کی لہلہا اٹھیوہ ہوا ہے کہ زخم بھرتے ہیں

ہے عجب فیصلے کا صحرا بھیچل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں

ہو رہا ہوں میں کس طرح برباددیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں

تم بنو رنگ تم بنو خوشبوہم تو اپنے سخن میں ڈھلتے ہیں

— جون ایلیا