5 اشعار

آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے

Aap se mil ke hum kuch badal se gaye, sher padhne lage gungunane lage

آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے

«آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگےپہلے مشہور تھی اپنی سنجیدگی اب تو جب دیکھیے مسکرانے لگے

ہم کو لوگوں سے ملنے کا کب شوق تھا محفل آرائی کا کب ہمیں ذوق تھاآپ کے واسطے ہم نے یہ بھی کیا ملنے جلنے لگے آنے جانے لگے

ہم نے جب آپ کی دیکھیں دلچسپیاں آگئیں چند ہم میں بھی تبدیلیاںاک مصور سے بھی ہو گئی دوستی اور غزلیں بھی سننے سنانے لگے

آپ کے بارے میں پوچھ بیٹھا کوئی کیا کہیں ہم سے کیا بد حواسی ہوئیکہنے والی جو تھی بات ہو نہ سکی بات جو تھی چھپانی بتانے لگے

عشق بے گھر کرے عشق بے در کرے عشق کا سچ ہے کوئی ٹھکانا نہیںہم جو کل تک ٹھکانے کے تھے آدمی آپ سے مل کے کیسے ٹھکانے لگے

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں