14 اشعار

کبھی یوں بھی تو ہو

Kabhi yun bhi toh ho

کبھی یوں بھی تو ہو

«کبھی یوں بھی تو ہو» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

کبھی یوں بھی تو ہودریا کا ساحل ہو

پورے چاند کی رات ہواور تم آؤ

کبھی یوں بھی تو ہوپریوں کی محفل ہو

کوئی تمہاری بات ہواور تم آؤ

کبھی یوں بھی تو ہویہ نرم ملائم ٹھنڈی ہوائیں

جب گھر سے تمہارے گزریںتمہاری خوشبو چرائیں

میرے گھر لے آئیںکبھی یوں بھی تو ہو

سونی ہر منزل ہوکوئی نہ میرے ساتھ ہو

اور تم آؤکبھی یوں بھی تو ہو

یہ بادل ایسا ٹوٹ کے برسےمیرے دل کی طرح ملنے کو

تمہارا دل بھی ترسےتم نکلو گھر سے

کبھی یوں بھی تو ہوتنہائی ہو ،دل ہو

بوندیں ہوں برسات ہواور تم آؤ

کبھی تو یوں بھی ہو

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں