23 اشعار

پرستار

Parastaar

پرستار

«پرستار» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 53 سیکنڈ ہے۔

وہ جو کہلاتا تھا دیوانہ تراوہ جسے حفظ تھا افسانہ ترا

جس کی دیواروں پہ آویزاں تھیںتصویریں تری

وہ جو دہراتا تھاتقریریں تری

وہ جو خوش تھا تری خوشیوں سےترے غم سے اداس

دور رہ کے جو سمجھتا تھاوہ ہے تیرے پاس

وہ جسے سجدہ تجھے کرنے سےانکار نہ تھا

اس کو دراصل کبھی تجھ سےکوئی پیار نہ تھا

اس کی مشکل تھیکہ دشوار تھے اس کے رستے

جن پہ بے خوف و خطرگھومتے رہزن تھے

سدا اس کی انا کے در پےاس نے گھبرا کے

سب اپنی انا کی دولتتیری تحویل میں رکھوا دی تھی

اپنی ذلت کو وہ دنیا کی نظراور اپنی بھی نگاہوں سے چھپانے کے لئے

کامیابی کو تریتری فتوحات

تری عزت کووہ ترے نام تری شہرت کو

اپنے ہونے کا سبب جانتا تھاہے وجود اس کا جدا تجھ سے

یہ کب مانتا تھاوہ مگر

پر خطر راستوں سے آج نکل آیا ہےوقت نے تیرے برابر نہ سہی

کچھ نہ کچھ اپنا کرم اس پہ بھی فرمایا ہےاب اسے تیری ضرورت ہی نہیں

جس کا دعویٰ تھا کبھیاب وہ عقیدت ہی نہیں

تیری تحویل میں جو رکھی تھی کلاس نے انا

آج وہ مانگ رہا ہے واپسبات اتنی سی ہے

اے صاحب نام و شہرتجس کو کل

تیرے خدا ہونے سے انکار نہ تھاوہ کبھی تیرا پرستار نہ تھا

— جاوید اختر