27 اشعار

سندیسے آتے ہیں ہمیں تڑپاتے ہیں

Sandese aate hain humein tadpaate hain

سندیسے آتے ہیں ہمیں تڑپاتے ہیں

«سندیسے آتے ہیں ہمیں تڑپاتے ہیں» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

سندیسے آتے ہیں ہمیں تڑپاتے ہیںجو چٹھی آتی ہے، وہ پوچھے جاتی ہے

کہ گھر کب آؤ گے لکھو کب آؤ گےکہ تم بن یہ گھر سونا سونا ہے

کسی دل والی نے، کسی متوالی نےہمیں خط لکھا ہے، یہ ہم سے پوچھا ہے

کسی کی سانسوں نے، کسی کی دھڑکن نےکسی کی چوڑی نے، کسی کے کنگن نے

کسی کے کجرے نے، کسی کے گجرے نےمہکتی صبحوں نے، مچلتی شاموں نے

اکیلی راتوں میں، ادھوری باتوں نےترستی بانہوں نے اور پوچھا ہے ترسی نگاہوں نے

کہ گھر کب آؤ گے لکھو کب آؤ گےکہ تم بن یہ گھر سونا سونا ہے

سندیسے آتے ہیں ۔۔۔محبت والوں نے ، ہمارے یاروں نے

ہمیں یہ لکھا ہے کہ ہم سے پوچھا ہےہمارے گاوؤں نے، آم کی چھاوؤں نے

پرانے پیپل نے، برستے بادل نےکھیت کھلیانوں نے، ہرے میدانوں نے

بسنتی میلوں نے، دہکتے پھولوں نےچٹکتی کلیوں نے اور پوچھا ہے گاؤں کی گلیوں نے

کہ گھر کب آؤ گے لکھو کب آؤ گےکہ تم بن یہ گھر سونا سونا ہے

سندیسے آتے ہیں ۔۔۔کبھی ایک ممتا کی، پیار کی گنگا کی

جو چٹھی آتی ہے، ساتھ وہ لاتی ہےمیرے دن بچپن کے، کھیل وہ آنگن کے

وہ سایہ آنچل کا، وہ ٹیکہ کاجل کاوہ لوری راتوں میں، وہ نرمی ہاتھوں میں

وہ چاہت آنکھوں میں، وہ چنتا باتوں میںبگڑنا اوپر سے، محبت اندر سے کرے وہ دیوی ماں

یہی ہر خط میں پوچھے میری ماںکہ گھر کب آؤ گے لکھو کب آؤ گے

کہ تم بن یہ گھر سونا سونا ہےاے گزرنے والی ہوا بتا

میرے اتنا کام کرے گی کیامیرے گاؤں جا، میرے دوستوں کو سلام دے

میرے گاؤں میں ہے جو وہ گلیجہاں رہتی ہے میری دلربا

اسے میرے پیار کا جام دےوہیں تھوڑی دور ہے گھر میرا

میرے گھر میں ہے میری بوڑھی ماںمیرے ماں کے پیروں کو چھو کے تو اسے

اس کے بیٹے کا نام دےاے گزرنے والی ہوا ذرا

میرے دوستوں ، میری دلربا، میری ماں کو میرا پیام دےانہیں جا کے تو یہ پیام دے

میں واپس آؤں گا پھر اپنے گاؤں میںاسی کی چھاؤں میں، کہ ماں کے آنچل سے

گاؤں کی پیپل سے، کسی کے کاجل سےکیا جو وعدہ تھا وہ نبھاؤں گا

میں ایک دن آؤں گا

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں