24 اشعار

میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔

Main aur meri tanhai aksar yeh baatein karte hain...

میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔

«میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔تم ہوتِیں تو کیسا ہوتا؟

تم یہ کہتیں، تم وہ کہتیں۔۔تم اِس بات پر حیران ہوتیں

تم اُس بات پر کتنا ہنستیںتم ہوتیں تو ایسا ہوتا

تم ہوتیں تو ویسا ہوتامیں اور میری تنہائ

اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔۔یہ رات ہے یا تمھاری زُلفیں کُھلی ہوئی ہیں؟

ہے چاندنی، یا تمھاری نظروں سے مری راتیں دُھلی ہوئی ہیں۔۔؟یہ چاند ہے یا تمھارا کنگن؟

ستارے ہیں یا تمھارا آنچل؟؟ھوّا کا جھونکا ہے یا تمھارے بدن کی خُوشبو؟؟

یہ پتِیوں کی ہے سرسراہٹکہ تم نے چپکے سے کچھ کہا ہے؟

یہ سوچتا ہوں میں کب سے گم سُمجب کہ مجھ کو بھی یہ خبر ہے۔۔۔

کہ تم نہیں ہو، کہیں نہیں ہو!!مگر، یہ دل ہے کہ کہہ رہا ہے۔۔۔۔۔۔

تم یہیں ہو یہیں کہیں ہو!!!تُو بدن ہے میں ہوں چھایا

تُو نہ ہو تو میں کہاں ہوں؟؟مجھے پیار کرنے والے

تُو جہاں ہے میں وہاں ہوں۔۔۔ہمیں مِلنا ہی تھا ہمدم

اِسی راہ پہ نِکل کےیہ کہاں آگئے ہم

یونہی ساتھ ساتھ چلتے۔۔۔؟میری سانس سانس مہکے

کوئی بھینا بھینا چندنتیرا پیار چاندنی ہے

میرا دل ہے جیسے آنگن۔۔ہوئی اور بھی ملائم

میری شام ڈھلتے ڈھلتےیہ کہاں آگئے ہم

یونہی ساتھ ساتھ چلتے۔۔۔مجبور یہ حالات اِدھر بھی ہیں، اُدھر بھی

تنہائی کی اِک رات، اُدھر بھی ہے اِدھر بھی۔۔کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگر کس سے کہیں ہم؟

کب تک یوں خاموش رہیں اور سہیں ہم؟؟جی چاہتا ہے دنیا کی ہر اک رسم اٹھا دیں

دیوار جو ہم دونوں میں ہے، آج گِرا دیںکیوں دل میں سُلگتے رہیں لوگوں کو بتا دیں!

ہاں ہم کو محبت ہے!محبت ہے، محبت!!!

اور دل میں یہی بات، اُدھر بھی ہےاِدھر بھی۔۔۔۔۔!!

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں