8 اشعار

دل کو مآل ِ عشق سے بیگانہ کیجیے

Dil ko maal-e-ishq se begaana keeji'ye

دل کو مآل ِ عشق سے بیگانہ کیجیے

«دل کو مآل ِ عشق سے بیگانہ کیجیے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

دل کو مآل ِ عشق سے بیگانہ کیجیےپروانہ کہہ رہا ہے کہ پروا نہ کیجیے

ہر خواب ناگزیر ہے ہر کام فرض ہےکس کس سے ہاتھ کھینچیے کیا کیا نہ کیجیے

وہ بات جو ابھی ابھی میں نے نہیں سُنیوہ بات ہو سکے تو دوبارہ نہ کیجیے

مخلص ہیں؟؟ اور وہ بھی مجھ ایسے حقیر سے ؟؟اپنے ہی ساتھ آپ یہ دھوکہ نہ کیجیے !!

کیا سچ میں آپ جی نہیں سکتے مرے بغیر ؟؟تو پھر کوئی جواز مہیا نہ کیجیے !!

اتنی بھی میری درگزری مستقل نہیں..!!کتنی دفعہ کہا ہے کہ ایسا نہ کیجیے..!!

ہاں شکر تو ضرور بجا لائیے حضور !!لیکن ہمارے ضبط پہ تکیہ نہ کیجیے

اچھا ہے انفراد بھی اپنی جگہ مگرجواد کوئی کام تو اُلٹا نہ کیجیے !!

— جواد شیخ