7 اشعار

مولا !! کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو

Maula !! Kisi ko aisa muqaddar na deeji'yo

مولا !! کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو

«مولا !! کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

مولا !! کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیودلبر نہیں تو پھر کوئی دیگر نہ دیجیو

اپنے سوال سہل نہ لگنے لگیں اُسےآتے بھی ہوں جواب تو فر فر نہ دیجیو

چادر وہ دیجیو اُسے جس پر شکن نہ آئےجس پر شکن نہ آئے وہ بستر نہ دیجیو

بکھراؤ کچھ نہیں بھی سمٹتے مرے عزیز !!اپنے کسی خیال کو پیکر نہ دیجیو

یا دل سے ترک کیجیو دستار کا خیالیا اِس معاملے میں کبھی سر نہ دیجیو

کہیو کہ تُو نے خوب بنائی ہے کائناتلیکن اُسے لکھائی کے نمبر نہ دیجیو

معیار سے سِوا یہاں رفتار چاہیےجواد !! اُس کو آخری اوور نہ دیجیو

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں