6 اشعار

تو کیا اِک ہمارے لیے ہی محبّت نیا تجربہ ہے ؟؟

To kya ik hamare liye hi muhabbat naya tajurba hai ??

تو کیا اِک ہمارے لیے ہی محبّت نیا تجربہ ہے ؟؟

«تو کیا اِک ہمارے لیے ہی محبّت نیا تجربہ ہے ؟؟» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

تو کیا اِک ہمارے لیے ہی محبّت نیا تجربہ ہے ؟؟جسے پوچھیے وہ کہے گا کہ جی ہاں بڑا تجربہ ہے !!

سمجھ میں نہ آئے تو میری خموشی کو دل پر نہ لیناکہ یہ عقل والوں کی دانست سے ماورا تجربہ ہے

کٹھن تو بہت ہے مگر دل کے رشتوں کو آزاد چھوڑوتوقع نہ باندھو کہ یہ اِک اذیت بھرا تجربہ ہے

مگر ہم مُصر تھے کہ ہم نے کتابیں بہت پڑھ رکھی ہیںبڑوں نے کہا بھی کہ دیکھو میاں تجربہ تجربہ ہے

وہ اپنی جگہ خوش گُماں تھی کہ دائم ہے پہلی محبتمیں اپنے تئیں مطمئن تھا کہ یہ دوسرا تجربہ ہے

کسی اور کے تجربے سے کوئی فائدہ کیا اُٹھاوںمحبت میں ہر تجربہ ہی الگ طرح کا تجربہ ہے

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں