8 اشعار

عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے

Arz-e-alam ba tarz-e-tamasha bhi chahiye

عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے

«عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل» میں 16 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیےدنیا کو حال ہی نہیں حلیہ بھی چاہیے

اے دل کسی بھی طرح مجھے دستیاب کرجتنا بھی چاہیے اسے جیسا بھی چاہیے

دکھ ایسا چاہیے کہ مسلسل رہے مجھےاور اس کے ساتھ ساتھ انوکھا بھی چاہیے

اک زخم مجھ کو چاہیے میرے مزاج کایعنی ہرا بھی چاہیے گہرا بھی چاہیے

اک ایسا وصف چاہیے جو صرف مجھ میں ہواور اس میں پھر مجھے ید طولٰی بھی چاہیے

رب سخن مجھے تری یکتائی کی قسماب کوئی سن کے بولنے والا بھی چاہیے

کیا ہے جو ہو گیا ہوں میں تھوڑا بہت خرابتھوڑا بہت خراب تو ہونا بھی چاہیے

ہنسنے کو صرف ہونٹ ہی کافی نہیں رہےجوادؔ شیخ اب تو کلیجہ بھی چاہیے

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں