14 اشعار

تم اگر سیکھنا چاہو … مجھے بتلا دینا

Tum agar sīkhnā chāho … mujhe batlā denā

تم اگر سیکھنا چاہو … مجھے بتلا دینا

«تم اگر سیکھنا چاہو … مجھے بتلا دینا» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

تم اگر سیکھنا چاہو … مجھے بتلا دیناعام سا فن تو کوئی ہے نہیں تحفہ دینا

ایک ہی شخص ہے جس کو یہ ہنر آتا ہےروٹھ جانے پہ فضا اور بھی مہکا دینا

بھانپ لینا کہ بہت وقت نہیں اُس کے پاساور پھر اُس کو کسی بحث میں الجھا دینا

حُسن دنیا میں اِسی کام کو بھیجا گیا ہےکہ جہاں آگ لگی ہو .. اُسے بھڑکا دینا

اُن بزرگوں کا یہی کام ہوا کرتا تھاجہاں خوبی نظر آئی اُسے چمکا دینا

دل بتاتا ہے مجھے عقل کی باتیں کیا کیابندہ پوچھے کہ ترا ہے کوئی لینا دینا

اور کہنا کہ دِلوں میں نہیں کوئی سرحداپنے بچوں کو نہ قرآن نہ گیتا دینا

اور کچھ یاد نہ رہتا تھا لڑائی میں اُسےہاں مگر میرے گزشتہ کا حوالہ دینا

اُس کی فطرت میں نہ تھا ترک ِ تعلق لیکندوسرے شخص کو اِس نہج پہ پہنچا دینا

جانتا تھا کہ بہت خاک اڑائے گا مریکوئی آسان نہیں تھا اُسے رستہ دینا

یہ وہ منصب ہیں جو اپنوں کو دیے جاتے ہیںیاد کیا رکھنا اُسے اور بھُلا کیا دینا

کیا پتہ خود سے چھڑی جنگ کہاں لے جائےجب بھی یاد آؤں مری جان کا صدقہ دینا

دل کا سامان کوئی خاک خریدے اُس سےیاد ہی جس کو نہ رہتا ہو بقایا دینا

بات کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں مگرختم ہے حضرت ِ جواد پہ لقمہ دینا

— جواد شیخ