8 اشعار

میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہو

Main ne chaha to nahin tha ke kabhi aisa ho

میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہو

«میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہو» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہولیکن اب ٹھان چکے ہو تو چلو اچھا ہو

ہم تو یہ بھی نہیں کہتے کہ ہمیں کیا مطلباُس کو ہوتا ہے کوئی غم تو بھلے ہوتا ہو

تم سے ناراض تو میں اور کسی بات پہ ہوںتم مگر اور کسی وجہ سے شرمندہ ہو

اب کہیں جا کے یہ معلوم ہوا ہے مجھ کوٹھیک رہ جاتا ہے جو شخص ترے جیسا ہو

ایسے حالات میں ہو بھی کوئی حسّاس تو کیااور بے حس بھی اگر ہو تو کوئی کتنا ہو

جا کے پوچھو تو سہی اُسکی خموشی کا سببکیا خبر دل میں کوئی بات لیے بیٹھا ہو

اور ہی طرح کے رستے کی تمنّا ہے مجھےجو کسی اور ہی منزل کی طرف جاتا ہو

تاکہ تُو سمجھے کہ مَردوں کے بھی دُکھ ہوتے ہیںمیں نے چاہا بھی یہی تھا کہ ترا بیٹا ہو

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں