7 اشعار

آدمی آدمی سے ملتا ہے

Aadmi aadmi se milta hai

آدمی آدمی سے ملتا ہے

«آدمی آدمی سے ملتا ہے» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

آدمی آدمی سے ملتا ہےدل مگر کم کسی سے ملتا ہے

بھول جاتا ہوں میں ستم اس کےوہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے

آج کیا بات ہے کہ پھولوں کارنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے

سلسلہ فتنۂ قیامت کاتیری خوش قامتی سے ملتا ہے

مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتاٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے

کاروبار جہاں سنورتے ہیںہوش جب بے خودی سے ملتا ہے

روح کو بھی مزا محبت کادل کی ہم سائیگی سے ملتا ہے

— جگر مراد آبادی