6 اشعار

بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں

Be-kaif dil hai aur jiye jā rahā huuñ maiñ

بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں

«بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 9 منٹ 54 سیکنڈ ہے۔

بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میںخالی ہے شیشہ اور پیے جا رہا ہوں میں

پیہم جو آہ آہ کیے جا رہا ہوں میںدولت ہے غم زکوٰۃ دئیے جا رہا ہوں میں

مجبوری کمال محبت تو دیکھناجینا نہیں قبول جیے جا رہا ہوں میں

وہ دل کہاں ہے اب کہ جسے پیار کیجیےمجبوریاں ہیں ساتھ دئیے جا رہا ہوں میں

رخصت ہوئی شباب کے ہم راہ زندگیکہنے کی بات ہے کہ جیے جا رہا ہوں میں

پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شرابکوئی پلا رہا ہے پیے جا رہا ہوں میں

— جگر مراد آبادی