8 اشعار

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں

Ham ko miTā sakeñ ye zamāne meñ dam nahīñ

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں

«ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیںہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

بے فائدہ الم نہیں بے کار غم نہیںتوفیق دے خدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں

میری زباں پہ شکوۂ اہل ستم نہیںمجھ کو جگا دیا یہی احسان کم نہیں

یا رب ہجوم درد کو دے اور وسعتیںدامن تو کیا ابھی مری آنکھیں بھی نم نہیں

شکوہ تو ایک چھیڑ ہے لیکن حقیقتاًتیرا ستم بھی تیری عنایت سے کم نہیں

اب عشق اس مقام پہ ہے جستجو نوردسایہ نہیں جہاں کوئی نقش قدم نہیں

ملتا ہے کیوں مزہ ستم روزگار میںتیرا کرم بھی خود جو شریک ستم نہیں

مرگ جگرؔ پہ کیوں تری آنکھیں ہیں اشک ریزاک سانحہ سہی مگر اتنا اہم نہیں

— جگر مراد آبادی