13 اشعار

عشق کو بے نقاب ہونا تھا

Ishq ko be-naqāb honā thā

عشق کو بے نقاب ہونا تھا

«عشق کو بے نقاب ہونا تھا» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

عشق کو بے نقاب ہونا تھاآپ اپنا جواب ہونا تھا

مست جام شراب ہونا تھابے خود اضطراب ہونا تھا

تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیںہاں مجھی کو خراب ہونا تھا

آؤ مل جاؤ مسکرا کے گلےہو چکا جو عتاب ہونا تھا

کوچۂ عشق میں نکل آیاجس کو خانہ خراب ہونا تھا

مست جام شراب خاک ہوتےغرق جام شراب ہونا تھا

دل کہ جس پر ہیں نقش رنگارنگاس کو سادہ کتاب ہونا تھا

ہم نے ناکامیوں کو ڈھونڈ لیاآخرش کامیاب ہونا تھا

ہائے وہ لمحۂ سکوں کہ جسےمحشر اضطراب ہونا تھا

نگۂ یار خود تڑپ اٹھتیشرط اول خراب ہونا تھا

کیوں نہ ہوتا ستم بھی بے پایاںکرم بے حساب ہونا تھا

کیوں نظر حیرتوں میں ڈوب گئیموج صد اضطراب ہونا تھا

ہو چکا روز اولیں ہی جگرؔجس کو جتنا خراب ہونا تھا

— جگر مراد آبادی