11 اشعار

جہل خرد نے دن یہ دکھائے

Jahl-e-ḳhirad ne din ye dikhā.e

جہل خرد نے دن یہ دکھائے

«جہل خرد نے دن یہ دکھائے» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

جہل خرد نے دن یہ دکھائےگھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے

ہائے وہ کیونکر دل بہلائےغم بھی جس کو راس نہ آئے

ضد پر عشق اگر آ جائےپانی چھڑکے آگ لگائے

دل پہ کچھ ایسا وقت پڑا ہےبھاگے لیکن راہ نہ پائے

کیسا مجاز اور کیسی حقیقتاپنے ہی جلوے اپنے ہی سائے

جھوٹی ہے ہر ایک مسرتروح اگر تسکین نہ پائے

کار زمانہ جتنا جتنابنتا جائے بگڑتا جائے

ضبط محبت شرط محبتجی ہے کہ ظالم امڈا آئے

حسن وہی ہے حسن جو ظالمہاتھ لگائے ہاتھ نہ آئے

نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کوروح سنے اور روح سنائے

راہ جنوں آسان ہوئی ہےزلف و مژہ کے سائے سائے

— جگر مراد آبادی