17 اشعار

جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا

Jo ab bhī na taklīf farmā.iye gā

جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا

«جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گاتو بس ہاتھ ملتے ہی رہ جائیے گا

نگاہوں سے چھپ کر کہاں جائیے گاجہاں جائیے گا ہمیں پائیے گا

مرا جب برا حال سن پائیے گاخراماں خراماں چلے آئیے گا

مٹا کر ہمیں آپ پچھتائیے گاکمی کوئی محسوس فرمائیے گا

نہیں کھیل ناصح جنوں کی حقیقتسمجھ لیجئے گا تو سمجھائیے گا

ہمیں بھی یہ اب دیکھنا ہے کہ ہم پرکہاں تک توجہ نہ فرمائیے گا

ستم عشق میں آپ آساں نہ سمجھیںتڑپ جائیے گا جو تڑپائیے گا

یہ دل ہے اسے دل ہی بس رہنے دیجےکرم کیجئے گا تو پچھتائیے گا

کہیں چپ رہی ہے زبان محبتنہ فرمائیے گا تو فرمائیے گا

بھلانا ہمارا مبارک مبارکمگر شرط یہ ہے نہ یاد آئیے گا

ہمیں بھی نہ اب چین آئے گا جب تکان آنکھوں میں آنسو نہ بھر لائیے گا

ترا جذبۂ شوق ہے بے حقیقتذرا پھر تو ارشاد فرمائیے گا

ہمیں جب نہ ہوں گے تو کیا رنگ محفلکسے دیکھ کر آپ شرمایئے گا

یہ مانا کہ دے کر ہمیں رنج فرقتمداوائے فرقت نہ فرمائیے گا

محبت محبت ہی رہتی ہے لیکنکہاں تک طبیعت کو بہلایئے گا

نہ ہوگا ہمارا ہی آغوش خالیکچھ اپنا بھی پہلو تہی پائیے گا

جنوں کی جگرؔ کوئی حد بھی ہے آخرکہاں تک کسی پر ستم ڈھایئے گا

— جگر مراد آبادی