9 اشعار

کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا

Kaam āḳhir jazba-e-be-iḳhtiyār aa hī gayā

کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا

«کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیادل کچھ اس صورت سے تڑپا ان کو پیار آ ہی گیا

جب نگاہیں اٹھ گئیں اللہ ری معراج شوقدیکھتا کیا ہوں وہ جان انتظار آ ہی گیا

ہائے یہ حسن تصور کا فریب رنگ و بومیں یہ سمجھا جیسے وہ جان بہار آ ہی گیا

ہاں سزا دے اے خدائے عشق اے توفیق غمپھر زبان بے ادب پر ذکر یار آ ہی گیا

اس طرح خوش ہوں کسی کے وعدۂ فردا پہ میںدر حقیقت جیسے مجھ کو اعتبار آ ہی گیا

ہائے کافر دل کی یہ کافر جنوں انگیزیاںتم کو پیار آئے نہ آئے مجھ کو پیار آ ہی گیا

درد نے کروٹ ہی بدلی تھی کہ دل کی آڑ سےدفعتاً پردہ اٹھا اور پردہ دار آ ہی گیا

دل نے اک نالہ کیا آج اس طرح دیوانہ واربال بکھرائے کوئی مستانہ وار آ ہی گیا

جان ہی دے دی جگرؔ نے آج پائے یار پرعمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا

— جگر مراد آبادی