5 اشعار

جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں

Jo tūfānoñ meñ palte jā rahe haiñ

جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں

«جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 29 سیکنڈ ہے۔

جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیںوہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں

نکھرتا آ رہا ہے رنگ گلشنخس و خاشاک جلتے جا رہے ہیں

وہیں میں خاک اڑتی دیکھتا ہوںجہاں چشمے ابلتے جا رہے ہیں

چراغ دیر و کعبہ اللہ اللہہوا کی ضد پہ جلتے جا رہے ہیں

شباب و حسن میں بحث آ پڑی ہےنئے پہلو نکلتے جا رہے ہیں

— جگر مراد آبادی