9 اشعار

کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا

Kasrat meñ bhī wahdat kā tamāshā nazar aayā

کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا

«کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیاجس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیا

جب اس رخ پر نور کا جلوہ نظر آیاکعبہ نظر آیا نہ کلیسا نظر آیا

یہ حسن یہ شوخی یہ کرشمہ یہ ادائیںدنیا نظر آئی مجھے تو کیا نظر آیا

اک سرخوشی عشق ہے اک بے خودیٔ شوقآنکھوں کو خدا جانے مری کیا نظر آیا

جب دیکھ نہ سکتے تھے تو دریا بھی تھا قطرہجب آنکھ کھلی قطرہ بھی دریا نظر آیا

قربان تری شان عنایت کے دل و جاںاس کم نگہی پر مجھے کیا کیا نظر آیا

ہر رنگ ترے رنگ میں ڈوبا ہوا نکلاہر نقش ترا نقش کف پا نظر آیا

آنکھوں نے دکھا دی جو ترے غم کی حقیقتعالم مجھے سارا تہ و بالا نظر آیا

ہر جلوے کو دیکھا ترے جلووں سے منورہر بزم میں تو انجمن آرا نظر آیا

— جگر مراد آبادی