10 اشعار

کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے

Kyā ta'ajjub ki mirī rūh-e-ravāñ tak pahuñche

کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے

«کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچےپہلے کوئی مرے نغموں کی زباں تک پہنچے

جب ہر اک شورش غم ضبط فغاں تک پہنچےپھر خدا جانے یہ ہنگامہ کہاں تک پہنچے

آنکھ تک دل سے نہ آئے نہ زباں تک پہنچےبات جس کی ہے اسی آفت جاں تک پہنچے

تو جہاں پر تھا بہت پہلے وہیں آج بھی ہےدیکھ رندان خوش انفاس کہاں تک پہنچے

جو زمانے کو برا کہتے ہیں خود ہیں وہ برےکاش یہ بات ترے گوش گراں تک پہنچے

بڑھ کے رندوں نے قدم حضرت واعظ کے لیےگرتے پڑتے جو در پیر مغاں تک پہنچے

تو مرے حال پریشاں پہ بہت طنز نہ کراپنے گیسو بھی ذرا دیکھ کہاں تک پہنچے

ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیںمیرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

عشق کی چوٹ دکھانے میں کہیں آتی ہےکچھ اشارے تھے کہ جو لفظ و بیاں تک پہنچے

جلوے بیتاب تھے جو پردۂ فطرت میں جگرؔخود تڑپ کر مری چشم نگراں تک پہنچے

— جگر مراد آبادی