8 اشعار

شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے

Shab-e-firaq hai aur neend aayi jaati hai

شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے

«شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہےکچھ اس میں ان کی توجہ بھی پائی جاتی ہے

یہ عمر عشق یوں ہی کیا گنوائی جاتی ہےحیات زندہ حقیقت بنائی جاتی ہے

بنا بنا کے جو دنیا مٹائی جاتی ہےضرور کوئی کمی ہے کہ پائی جاتی ہے

ہمیں پہ عشق کی تہمت لگائی جاتی ہےمگر یہ شرم جو چہرے پہ چھائی جاتی ہے

خدا کرے کہ حقیقت میں زندگی بن جائےوہ زندگی جو زباں تک ہی پائی جاتی ہے

گناہ گار کے دل سے نہ بچ کے چل زاہدیہیں کہیں تری جنت بھی پائی جاتی ہے

نہ سوز عشق نہ برق جمال پر الزامدلوں میں آگ خوشی سے لگائی جاتی ہے

کچھ ایسے بھی تو ہیں رندان پاک باز جگرؔکہ جن کو بے مئے و ساغر پلائی جاتی ہے

— جگر مراد آبادی