7 اشعار

طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے

Tabiyat in dinon begana-e-gham hoti jaati hai

طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے

«طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہےمرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے

سحر ہونے کو ہے بیدار شبنم ہوتی جاتی ہےخوشی منجملہ و اسباب ماتم ہوتی جاتی ہے

قیامت کیا یہ اے حسن دو عالم ہوتی جاتی ہےکہ محفل تو وہی ہے دل کشی کم ہوتی جاتی ہے

وہی مے خانہ و صہبا وہی ساغر وہی شیشہمگر آواز نوشا نوش مدھم ہوتی جاتی ہے

وہی ہیں شاہد و ساقی مگر دل بجھتا جاتا ہےوہی ہے شمع لیکن روشنی کم ہوتی جاتی ہے

وہی شورش ہے لیکن جیسے موج تہ نشیں کوئیوہی دل ہے مگر آواز مدھم ہوتی جاتی ہے

وہی ہے زندگی لیکن جگرؔ یہ حال ہے اپناکہ جیسے زندگی سے زندگی کم ہوتی جاتی ہے

— جگر مراد آبادی