نظم 13 اشعار

گھٹا چھائی تو کیا

Ghata chhaai to kya

چھٹ گئے جب آپ ہی اودی گھٹا چھائی تو کیاتربت پامال کے سبزے پہ لہر آئی تو کیا

جب ضرورت ہی رہی باقی نہ لحن و رنگ کیکوئلیں کوکیں تو کیا ساون کی رت آئی تو کیا

ہجر کے آلام سے جب چھٹ چکی نبض نشاطاب ہوا نے خار و خس میں روح دوڑائی تو کیا

ہو چکی ذوق تبسم ہی سے جب بیگانگیاب چمن افروز پھولوں کو ہنسی آئی تو کیا

مڑ چکی جب موت کے جادے کی جانب زندگیاب کسی نے عافیت کی راہ دکھلائی تو کیا

ہر نفس کے ساتھ دل سے جب دھواں اٹھنے لگابادلوں سے چھن کے اب ٹھنڈی ہوا آئی تو کیا

سامنے جب آپ کے گیسو کی لہریں ہی نہیںبدلیوں نے چرخ پر اب زلف بکھرائی تو کیا

ہو چکا پایاب جب بحر سر و برگ شباباب سمندر کی جوانی باڑھ پر آئی تو کیا

غنچۂ عہد طرب ہی مل چکا اب خاک میںخاک گلشن اب گل تر بن کے اترائی تو کیا

مٹ چکے جب والہانہ بانکپن کے ولولےآئی اب دوشیزۂ موسم کو انگڑائی تو کیا

کھل چکا جب پرچم غم زندگی کے قصر پراب ہواؤں نے کمر پودوں کی لچکائی تو کیا

آنسوؤں میں بہہ گئیں جب خون کی جولانیاںجنگلوں کی چھاؤں میں برسات اٹھلائی تو کیا

جوشؔ کے پہلو میں جب تم ہی مچل سکتے نہیںپھر گھٹا کے دامنوں میں برق لہرائی تو کیا

— جوش ملیح آبادی