نظم 8 اشعار

تو گھر سے نکل آئے تو

Tu Ghar Se Nikal Aaye To

تو گھر سے نکل آئے تو دھرتی کو جگا دےتو باغ میں جس وقت لچکتی ہوئی آئے

ساون کی طرح جھوم کے پودوں کو جھمائےجوڑے کی گرہ کھول کے بیلا جو اٹھائے

پربت پہ برستی ہوئی برکھا کو نچا دےتو گھر سے نکل آئے تو دھرتی کو جگا دے

آنکھوں کو جھکائے ہوئے پلو کو اٹھائےمکھڑے پہ لیے صبح کے مچلے ہوئے سائے

لیتی ہوئی انگڑائی اگر گھاٹ پہ آئےگنگا کی ہر اک لہر میں اک دھوم مچا دے

تو گھر سے نکل آئے تو دھرتی کو جگا دےکرنوں سے گرے اوس جو ہو تیرا اشارا

مٹی کو نچوڑے تو بہے رنگ کا دھاراذرے کو جو روندے تو بنے صبح کا تارا

کانٹے پہ جو تو پاؤں دھرے پھول بنا دےتو گھر سے نکل آئے تو دھرتی کو جگا دے

— جوش ملیح آبادی